1 اکتوبر 2012 - 20:30

عراق کےمختلف علاقوں میں ہونےوالےدہشتگردانہ حملےاس دعوے کاثبوت ہيں کہ اب بھی ایسےہاتھ ہيں جواس ملک میں بدامنی پھیلانےکی کوشش کررہے ہيں۔بغداد اور اس کے مضافات میں ہونےوالی دہشتگردی کےحالیہ واقعات میں سترہ افراد ہلاک اورزخمی ہوئے۔

ابنا: گذشتہ اتوار کو بھی عراق کےمختلف شہروں میں ہونےوالےبم دھماکوں میں چونتیس افراد ہلاک اورایک سوچارزخمی ہوگئے۔عراقی وزارت داخلہ نےاپنی رپورٹ میں اعلان کیاہےکہ ستمبرکےمہینےمیں عراق کےمختلف علاقوں میں دہشتگردی کےواقعات میں تین سوپینسٹھ افراد ہلاک ہوگئےتھے۔ عراقی ذرائع نےتاکیدکی ہےکہ ستمبرکامہینہ عراق کےلئےگذشتہ دوبرس کےدوران کاسب سےخونی مہینہ رہا ہے۔
گذشتہ مہینوں میں عراق میں رونماہونےوالےواقعات پرایک نگاہ ڈالنےسےپتہ چلتاہے کہ جب سے العراقیہ پارٹی کےرکن طارق الھاشمی پرمقدمہ کی کاروائی شروع ہوئی ہے، اس ملک میں تشدد کی ایک لہرشروع ہوگئي ہے اورسب سےاہم نکتہ یہ ہےکہ جب سے عدالت نےان کی غیرموجودگی میں انھیں سزا سنائی ہے اس ملک کی سیکورٹی کی صورت حال بری طرح متاثرہوئی ہے۔
اب اس میں کوئی شک باقی نہيں رہ گیا ہے عراق کےسیکورٹی مسائل اورالعراقیہ کےاقدامات کےتانےبانےایک دوسرےسےملتےہيں ۔بالخصوص یہ کہ العراقیہ پارٹی ایک عرصےسےعراق ميں سرگرم دہشتگرد گروہوں سےرابطےمیں ہے۔ امریکہ ،حالیہ برسوں میں عراق میں سرگرم دہشتگردگروہوں کواستعمال کرکے براہ راست یابالواسطہ طور پر اس ملک میں ہونےوالی دہشتگردانہ کاروائیوں میں ملوث رہا ہے۔
اس بیچ عراق میں امریکہ کی پرائیویٹ سیکورٹی کمپنیوں کےکردارسےغافل نہیں ہواجاسکتا۔اس وقت عراق میں کئی سیکورٹی کمپنیاں فعال ہيں ۔ یہ کمپنیاں عراق پرقبضےکےدوران، امریکہ کےفوجی بازو کی حیثیت سےکام کررہی تھیں اورعراق میں ہونےوالی بہت سی دہشتگردانہ کاروائیوں میں ملوث پائی گئيں تھی اس لحاظ سے عراق میں پیداہونےوالی بدامنی میں امریکہ کی پرائیویٹ سیکورٹی کمپنیوں کےکردارکاانکارنہيں کیاجاسکتا۔
اس کےباوجود یہ امکان بھی پایاجاتا ہے کہ علاقےکےبعض عرب ممالک جوشام کےسلسلےمیں عراق کےموقف سےناراض ہیں  دہشتگردانہ گروہوں کواکسا کر انھیں بغداد حکومت پردباؤ ڈالنے کےلئےاستعمال کررہے ہيں۔
اس بیچ شام کی حکومت نیز عراق کی مالکی حکومت سےسعودی عرب اور قطرکی دشمنی کےپیش نظر بعض سیاسی حلقےعراق میں بدامنی کےسلسلےمیں شک کی انگلی ریاض اوردوحہ کی طرف اٹھارہے ہيں۔بالخصوص یہ کہ اب تک عراق میں دسیوں دہشتگردوں کوگرفتارکیاجاچکاہے جوسعودی عرب جنوبی خلیج فارس کےعرب ممالک کےشہری ہیں۔ اس مسئلےکےپیش نظرایسانظرآتاہے کہ علاقےکےبعض عرب ممالک یہ چاہتےہیں کہ شام اورعراق سمیت بعض عرب ممالک میں تشدد کوھوادےکراس مسئلےکواپنےمقاصدکےحصول کےلئےاستعمال کریں۔لیکن مسلمہ امریہ ہےکہ علاقےکےجس ملک  کےخلاف جوبھی اقدام کیاجائےگااس کےمنفی نتائج تمام عرب ممالک کو برداشت کرناہوں گے یہ ایک ایسی حقیقت ہےکہ اگراس پرتوجہ نہ دی گئي توآئندہ علاقےمیں اغیارکی موجودگی کاراستہ ہموارہوسکتاہے جس سےعلاقےکاامن واستحکام خطرےمیں پڑسکتاہے۔
 .....

/169